دہلی:24/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس نے آج الزام لگایا کہ موجودہ مرکزی حکومت کے تحت بدعنوانی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اگر حکومت بدعنوانی کے معاملے پر سنجیدہ ہوتی تو اب تک لوک پال کی تقرری یقینی ہوتی۔ بی جے پی نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت میں شفافیت پر زور دیا گیا ہے اور گزشتہ چار سال میں کرپشن کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔لوک سبھا میں آج بدعنوانی کا سراغ لگانے والے ترمیم بل ۔2018 پر بحث شروع ہوئی۔ بحث کے دوران بدعنوانی کے معاملے پر حکمراں فریق اور کانگریس کے ارکان کے درمیان نوک جھوک بھی ہوئی۔ بل پر بحث اور منظور کرانے کے لئے رکھتے ہوئے وزیر مملکت جتندر سنگھ نے کہا کہ بدعنوانی کو لے کر حکومت کی عدم گنجائش کی پالیسی ہے اور اسی کے تحت یہ ترمیمی بل لایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بل میں یہ خیال رکھا کیا گیا ہے کہ بدعنوانی کے کسی بھی معاملے کی سماعت دو سال کے اندر اندر مکمل کر لی جائے گی۔ وزیر نے کہا کہ ایماندار افسران بے خوف ماحول میں کام کر سکیں، اس بات کا ترمیمی بل میں پورا خیال رکھا گیا ہے۔ بل پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس کے رنجن چودھری نے کہا کہ اس بل میں قانونی طور پر اور مضبوطی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اگر حکومت بدعنوانی کے معاملے پر معاملے پرسنجیدہ ہوتی تو اب تک لوک پال کی تقرری یقینی تھی ۔چودھری نے دعویٰ کیا کہ موجودہ وقت میں بدعنوانی کی صورتحال سنگین ہو گئی ہے اور بین الاقوامی سروے میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے۔ کانگریس رکن نے رافیل لڑاکا طیارے کی خریداری کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ حکومت کو اس پر جواب دینا چاہئے۔ بی جے پی کے پرہلاد جوشی نے کہا کہ یہ بل حکومت کے ترقی پسندموقف کو واضح کرتا ہے اور اس سے بدعنوانی کے مسئلے پر روکنے میں مدد ملے گی۔ جوشی نے کہا کہ مودی حکومت میں شفافیت پر زور دیا گیا ہے اور گزشتہ چار سال میں کرپشن کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ ہم نے بدعنوانی سے پاک انتظامیہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس ترمیمی بل کی فراہمی کے مطابق باضابطہ سماعت سے کرپشن سے مبتلا لوگوں کو انصاف کے لئے طویل انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔